پیر 10 اگست 2026 - 06:42
اسلام انسانیت دوستی کا مذہب ہے، انسان دوستی کا نہیں!

حوزہ / انسان دوستی کا مطلب انسانیت دوستی ہے؛ یعنی ہم انسانیت کی راہ اور اس کے مقصد اور انسانیت کے کمال سے محبت کریں۔ علی علیہ السلام سے محبت انسانیت دوستی ہے کیونکہ علی علیہ السلام انسانیت، حق پرستی، پاکیزگی، شجاعت، عدالت اور مظلوموں کی مدد کا مجسم نمونہ تھے۔ اسلام مکتبِ انسانیت دوستی ہے، انسان دوستی کا مکتب نہیں کیونکہ انسانیت اور ضدِ انسانیت سے یکساں محبت نہیں کی جا سکتی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد شہید مطہری نے اپنی ایک تصنیف میں ’’اسلام کے مکتبِ انسانیت دوستی ہونے‘‘ کے موضوع کی جانب اشارہ کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

انسان دوست اور انسانیت دوست فلسفہ سے کیا مراد ہے؟

کیا انسان دوستی کا مطلب کسی انسان سے محبت کرنا ہے؟

تو پھر ہر عاشق جو اپنے محبوب سے محبت کرتا ہے، انسان دوست ہے۔ یا پھر ہمیں تمام انسانوں سے، خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، صالح ہوں یا بدکار، ظالم ہوں یا عادل، پاک دامن ہوں یا ناپاک، یکساں محبت کرنی چاہیے؟

یا انسان دوستی کا مطلب انسانیت دوستی ہے اور انسانیت دوستی یعنی خلقت میں انسانیت کی راہ اور اس کے مقصد اور انسانیت کے کمال سے محبت کرنا ہے؟

مولا علی علیہ السلام سے محبت انسانیت دوستی ہے کیونکہ کوئی بھی شخص علی علیہ السلام سے صرف ان کی ذات کی وجہ سے محبت نہیں کرتا۔

بلکہ اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ انسانیت کا مجسم نمونہ تھے۔ وہ عالم تھے، حق پرست تھے، پاکیزہ تھے، شجاع تھے، آزاد منش تھے، ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار تھے، عادل تھے، ایثار کرنے والے تھے، پرہیزگار تھے، حق کے بندے تھے، حق کے دوست تھے، استحصال کرنے والے نہیں تھے، سست نہیں تھے، آرام طلب نہیں تھے بلکہ مجاہد تھے۔

یا تو انسان دوست ہونا چاہیے یا انسانیت دوست۔ لومومبا (پیٹریس ایمری لومومبا؛ کانگو کے ایک سیاست دان اور آزادی پسند رہنما تھے جنہوں نے جمہوریہ کانگو کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں) اور چومبے(موئس چومبے؛ کانگو کے ایک تاجر اور سیاست دان تھے۔ انہوں نے 1960 سے 1963 تک علیحدگی پسند ریاست کٹنگا کے صدر اور 1964 سے 1965 تک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں) دونوں انسان ہیں، یزید اور امام حسین علیہ السلام دونوں انسان ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے مخالف قطبوں میں کھڑے ہیں۔

اگر ہم ان دونوں مخالف قطبوں سے محبت کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انسانیت اور ضدِ انسانیت کے حوالے سے بے تفاوت ہیں لہٰذا ہم انسانیت دوست نہیں ہیں۔

اسلام انسانیت دوستی کا مکتب ہے، انسان دوستی کا نہیں!۔ اسلام میں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسلام مکتبِ انسانیت دوستی ہے، انسان دوستی کا مکتب نہیں۔ اومانیسم انسان دوستی اور ’’صلحِ کل‘‘ کا نظریہ ہے اور یہ انسانیت دوستی کے منافی ہے۔

ماخذ: یادداشت‌های استاد مطہری، جلد 1، صفحہ 403

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha